8171 پر “نااہل” کا جواب آئے تو بی آئی ایس پی نااہلی کی وجہ تقریباً ہمیشہ آپ کے گھرانے کے اس ریکارڈ میں ہوتی ہے جو این ایس ای آر، یعنی بی آئی ایس پی کی قومی سروے رجسٹری، میں درج ہے۔ جواب میں اصل وجہ نہیں لکھی ہوتی اور کوئی ویب سائٹ اسے نہیں دکھا سکتی۔ لیکن بی آئی ایس پی کے اپنے صفحات بتاتے ہیں کہ وہ کون سے اصول لگاتا ہے، اور ریکارڈ دوبارہ دیکھے جانے کا ایک مفت راستہ موجود ہے۔ یہ گائیڈ صرف نااہلی کے پیغام کے بارے میں ہے۔ شروع میں کون اہل ہوتا ہے، یہ ہماری بی آئی ایس پی اہلیت چیک گائیڈ میں دیکھیں۔
بی آئی ایس پی نااہلی کی وجہ: پہلے یہ 3 کام کریں
- نتیجہ دوبارہ دیکھیں 8171.bisp.gov.pk پر، یا اپنا 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 8171 پر بھیج کر۔ تسلی کر لیں کہ جواب نااہل ہے، “شناختی کارڈ نہیں ملا” نہیں۔
- نیچے دی گئی وجوہات سے ملائیں۔ زیادہ تر گھرانوں کے لیے وجہ پی ایم ٹی اسکور یا پرانا ڈیٹا ہوتی ہے۔
- بے نظیر رجسٹریشن ڈیسک پر جائیں جو قریبی بی آئی ایس پی تحصیل دفتر میں ہے، اصل شناختی کارڈ کے ساتھ ڈیٹا اپ ڈیٹ کرائیں، یا مفت ہیلپ لائن 0800-26477 پر اپنے کیس کے بارے میں پوچھیں۔

8171 پر “نااہل” کے پیغام کا مطلب
دو مختلف جواب ہیں جنہیں لوگ اکثر ایک سمجھ لیتے ہیں:
| 8171 کا جواب | مطلب | کیا کریں |
|---|---|---|
| نااہل | گھرانہ این ایس ای آر میں ہے، مگر موجودہ ریکارڈ اہل نہیں | نیچے وجہ تلاش کریں، اور حالات بدلے ہیں تو ڈیٹا اپ ڈیٹ کرائیں |
| شناختی کارڈ نہیں ملا | گھرانے کا کبھی سروے نہیں ہوا | این ایس ای آر سروے کے ذریعے رجسٹریشن کرائیں۔ ہماری بی آئی ایس پی رجسٹریشن گائیڈ دیکھیں |
اگر آپ کو کفالت مل رہی تھی اور اب بند ہو گئی ہے تو ہماری بی آئی ایس پی رقم نہ ملنے کی گائیڈ بھی پڑھیں۔ اس میں ادائیگی والا پہلو ہے۔
بی آئی ایس پی کی بتائی ہوئی سرکاری وجوہات
ستمبر 2026 تک یہ وہ وجوہات ہیں جو بی آئی ایس پی نے خود شائع کیں، یا جو بی آئی ایس پی اور حکومت نے خبروں میں بیان کیں۔
1. آپ کا پی ایم ٹی اسکور حد سے زیادہ ہے
یہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ بی آئی ایس پی ہر سروے شدہ گھرانے کو سروے کے جوابات سے 0 سے 100 تک پراکسی مینز ٹیسٹ (پی ایم ٹی) اسکور دیتا ہے۔ کم اسکور کا مطلب زیادہ ضرورت ہے۔ بی آئی ایس پی کے کفالت صفحے کے مطابق بی آئی ایس پی بورڈ نے ستمبر 2021 میں حد 32 مقرر کی۔ جس خاندان میں کوئی معذور فرد ہو، اس کے لیے حد 37 ہے۔ اس سے اوپر گھرانہ کفالت کے لیے اہل نہیں۔
بی آئی ایس پی آپ کا اپنا اسکور شائع نہیں کرتا۔ یہ اسکور کن چیزوں سے بنتا ہے، ہماری پی ایم ٹی اسکور چیک گائیڈ میں دیکھیں۔
2. بہتر حال گھرانوں کے لیے اخراجی فلٹرز
بی آئی ایس پی کے این ایس ای آر صفحے کے مطابق وہ ممکنہ مستحقین کی جانچ کے لیے “گاڑی کی ملکیت، بار بار ہوائی سفر وغیرہ” جیسے اخراجی فلٹرز استعمال کرتا ہے۔ یعنی سروے کے جوابات غریب دکھائی دیں تب بھی گھرانہ نکل سکتا ہے۔
دسمبر 2019 میں بی آئی ایس پی نے نادرا کے ڈیٹا کی مدد سے 8 لاکھ 20 ہزار 165 افراد کو کفالت سے نکالا۔ دی نیوز کے مطابق اس وقت یہ فلٹر لگائے گئے:
- خاتون یا اس کے شوہر کا ایک یا زیادہ بار بیرون ملک سفر
- خاتون یا اس کے شوہر کے نام رجسٹرڈ گاڑی
- چھ ماہ کا اوسط فون بل (پی ٹی سی ایل یا موبائل) ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ
- ایگزیکٹو سینٹر سے بنا پاسپورٹ، یا خاندان کے تین یا زیادہ افراد کے ایگزیکٹو فیس سے بنے شناختی کارڈ
- سرکاری ملازمت، شوہر کی ملازمت سمیت
بی آئی ایس پی نے اپنی موجودہ مکمل فہرست شائع نہیں کی۔ اپریل 2022 میں وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت نے کہا کہ 2019 میں بہت سے لوگ بغیر تصدیق کے نکالے گئے، اور ریڈیو پاکستان کے مطابق ان کیسوں کو دیکھنے کے لیے 8171 کھولا گیا۔
3. گھرانے میں سرکاری ملازم
بی آئی ایس پی کی امداد سرکاری ملازمین کے لیے نہیں۔ 2019 کی جانچ میں وفاقی، صوبائی اور علاقائی حکومتوں، پاکستان پوسٹ، پاکستان ریلوے اور خود بی آئی ایس پی کے ملازمین نکالے گئے، اور وہ خواتین بھی جن کے شوہر وہاں ملازم تھے۔
4. گھرانے کا ریکارڈ پرانا یا غلط ہے
این ایس ای آر سروے کا زیادہ تر ڈیٹا 2019 سے 2021 کے درمیان جمع ہوا۔ اگر اس کے بعد آپ کا خاندان بدل گیا ہے تو ریکارڈ آپ کی اصل حالت نہیں دکھاتا۔ مثال کے طور پر اگر کسی فرد کی معذوری کبھی درج نہیں ہوئی تو آپ پر 37 والی حد لاگو نہیں ہوتی۔ بی آئی ایس پی نام، شناختی کارڈ، ازدواجی حیثیت، جنس اور معذوری کو نادرا کے ریکارڈ سے بھی ملاتا ہے، اس لیے نادرا کا غلط ریکارڈ بھی آپ کے خلاف جا سکتا ہے۔
ڈیٹا اپ ڈیٹ یا دوبارہ سروے کیسے کرائیں
بی آئی ایس پی نے ہر تحصیل دفتر میں بے نظیر رجسٹریشن ڈیسک قائم کیے ہیں تاکہ رہ جانے والے گھرانے رجسٹر ہوں اور پہلے سے سروے شدہ گھرانوں کا ڈیٹا اپ ڈیٹ ہو۔ طریقہ یہ ہے:
- پہلے نادرا کا ریکارڈ درست کرائیں۔ دیکھیں کہ شناختی کارڈ پر ازدواجی حیثیت درست ہے۔ طریقہ ہماری نادرا شناختی کارڈ گائیڈ میں ہے۔ خاندان میں کسی کا انتقال ہوا ہو تو یونین کونسل سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوائیں تاکہ نادرا ریکارڈ اپ ڈیٹ کر سکے۔
- کاغذات ساتھ لے جائیں: اپنا اصل شناختی کارڈ، گھر کے بالغ افراد کے شناختی کارڈ، تمام بچوں کے ب فارم، اور چالو موبائل نمبر۔ کسی فرد کی معذوری ہو تو معذوری سرٹیفکیٹ بھی لے جائیں۔
- سچے جواب دیں۔ افسر گھر کے افراد، تعلیم، اثاثوں اور آمدن کے بارے میں پوچھتا ہے۔ غلط جواب بعد میں مسئلہ بن سکتے ہیں۔
- کچھ عرصے بعد 8171 پر دوبارہ دیکھیں۔ اہلیت نئے ڈیٹا سے دوبارہ جانچی جاتی ہے، یہ فوری نہیں ہوتا۔
وقت کے بارے میں حقیقت پسند رہیں۔ بی آئی ایس پی کے این ایس ای آر صفحے کے مطابق خاندان کے افراد سے متعلق تبدیلیاں، جیسے پیدائش، وفات، ازدواجی حیثیت اور معذوری، باقاعدگی سے اپ ڈیٹ ہوتی ہیں۔ رہن سہن کا مکمل دوبارہ سروے صرف وقفے وقفے سے ہوتا ہے، سوائے کسی آفت کے۔ اسی صفحے کے مطابق جو گھرانے مستحق نہیں، انہیں ہر دو سال بعد دوبارہ سروے کے لیے بلایا جانا ہے۔ اس لیے ڈیسک کے عملے سے پوچھیں کہ آپ کے کیس کو کس طرح کی اپ ڈیٹ چاہیے۔ رجسٹری کی تفصیل ہماری این ایس ای آر کیا ہے گائیڈ میں ہے۔
شکایت یا اپیل کیسے کریں
بی آئی ایس پی کے کفالت صفحے کے مطابق اس کا ایک شکایات کے ازالے کا نظام ہے۔ شکایت درج کرانے کے لیے:
- اصل شناختی کارڈ کے ساتھ قریبی بی آئی ایس پی تحصیل دفتر جائیں۔
- یا ٹول فری بی آئی ایس پی ہیلپ لائن 0800-26477 پر کال کریں۔ بی آئی ایس پی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ پیر سے جمعہ صبح 9 سے شام 5 بجے تک کھلی ہے۔
- شکایت نمبر یا بات کرنے والے افسر کا نام سنبھال کر رکھیں۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی فلٹر غلط لگا، مثلاً ایک آدھ سفر یا ایسا فون بل جو آپ کے گھر کے رہن سہن کو ظاہر نہیں کرتا، تو صاف بتائیں اور پوچھیں کہ کیس دوبارہ کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔ پھر بھی بات آگے نہ بڑھے تو وفاقی محکمے کے خلاف پاکستان سٹیزن پورٹل پر بھی شکایت کر سکتے ہیں۔
بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین
بی آئی ایس پی کے شائع شدہ اصولوں میں بیوہ یا طلاق یافتہ خواتین کے لیے الگ حد نہیں۔ ان پر بھی وہی پی ایم ٹی اصول لاگو ہوتا ہے۔ فائدہ درست ریکارڈ سے ہوتا ہے: پہلے نادرا سے ازدواجی حیثیت اپ ڈیٹ کرائیں، پھر رجسٹریشن ڈیسک پر گھرانے کا ڈیٹا۔
یہ کام نہ کریں
- ایجنٹ کو پیسے نہ دیں۔ کوئی بھی پیسے لے کر پی ایم ٹی اسکور اوپر نیچے نہیں کر سکتا اور نہ “نام ڈلوا” سکتا ہے۔ تحصیل دفتر میں اپ ڈیٹ مفت ہے۔
- دوسرے نمبروں اور ویب سائٹوں پر بھروسہ نہ کریں۔ چیک کرنے کے لیے صرف 8171 اور 8171.bisp.gov.pk سرکاری ہیں۔
- او ٹی پی یا پن کسی کو نہ دیں، چاہے وہ خود کو بی آئی ایس پی کا عملہ کہے۔
- بار بار ایس ایم ایس بھیج کر جواب بدلنے کا انتظار نہ کریں۔ جواب تب ہی بدلتا ہے جب ریکارڈ بدلے۔
- اثاثے نہ چھپائیں۔ سروے میں سچے جواب دیں۔
کوئی بی آئی ایس پی کے نام پر پیسے یا کوڈ مانگے تو 0800-26477 یا تحصیل دفتر میں رپورٹ کریں۔ پنجاب اور وفاق کی دوسری امداد جس کے آپ اب بھی اہل ہو سکتے ہیں، اس کا اندازہ ہمارے مفت اہلیت چیکر سے لگائیں، اور بی آئی ایس پی اور پی ایس ای آر کا فرق پڑھیں کہ پنجاب کی اسکیمیں الگ سروے کیوں استعمال کرتی ہیں۔
گو پنجاب ایک آزاد ویب سائٹ ہے۔ ہم بی آئی ایس پی نہیں ہیں۔ ہم آپ کا ریکارڈ نہیں دیکھ سکتے، آپ کا پی ایم ٹی اسکور نہیں بتا سکتے اور نہ نتیجہ بدل سکتے ہیں۔ ہم صرف سرکاری طریقہ سمجھاتے ہیں تاکہ آپ خود اس پر عمل کر سکیں۔
