ای چالان آن لائن چیک پنجاب کے لیے ایک ہی سرکاری جگہ ہے: پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (پی ایس سی اے) کا ای چالان سسٹم echallan.psca.gop.pk۔ لوگ اسے مختلف ناموں سے تلاش کرتے ہیں، جیسے “echallan check”، “نمبر پلیٹ سے چالان” یا “شناختی کارڈ سے ٹریفک چالان”، لیکن مقصد ایک ہی ہوتا ہے: میری گاڑی یا موٹر سائیکل پر کوئی کیمرہ چالان تو نہیں، اور کتنے کا ہے۔ یہ سہولت مفت ہے اور اس کے لیے رجسٹریشن یا لاگ ان کی ضرورت نہیں۔

ای چالان آن لائن چیک پنجاب کے 3 آسان مرحلے

  1. سرکاری پورٹل echallan.psca.gop.pk کھولیں۔ ہوم پیج پر سرچ باکس کا عنوان Search E-Challan ہے۔
  2. پہلے خانے Plate Number میں اپنی گاڑی کا نمبر لکھیں، پھر دوسرے خانے میں مالک کا شناختی کارڈ نمبر (13 ہندسے، بغیر ڈیش) یا چیسس نمبر لکھیں۔
  3. اسکرین پر آنے والا کیپچا درج کریں اور Search دبائیں۔ پورٹل اس گاڑی کے خلاف درج چالان دکھا دے گا۔

پورٹل پر دونوں خانوں کے ساتھ ستارہ لگا ہے، یعنی صرف نمبر پلیٹ کافی نہیں۔ یہ جان بوجھ کر رکھا گیا ہے تاکہ کوئی اجنبی سڑک پر نمبر دیکھ کر کسی اور کی گاڑی کا ریکارڈ نہ نکال سکے۔

ای چالان آن لائن چیک پنجاب: سرکاری ویب سائٹ echallan.psca.gop.pk کا اسکرین شاٹ
echallan.psca.gop.pk کا سرکاری Search E-Challan باکس نمبر پلیٹ اور مالک کا شناختی کارڈ یا چیسس نمبر مانگتا ہے۔

کون سا خانہ کیا مانگتا ہے

خانہکیا لکھنا ہےکہاں سے ملے گا
Plate Numberرجسٹریشن نمبر انہی طریقوں میں سے کسی ایک میں: ABC 000، ABC 0000 یا ABC-00-0000نمبر پلیٹ اور رجسٹریشن بک
CNICرجسٹرڈ مالک کا 13 ہندسوں والا شناختی کارڈ نمبر، بغیر ڈیشمالک کا شناختی کارڈ
Chassis Numberاگر گاڑی ابھی آپ کے نام منتقل نہیں ہوئی تو شناختی کارڈ کی جگہ یہ لکھیںرجسٹریشن بک، اور گاڑی کی باڈی پر کندہ
کیپچااسکرین پر دکھائے گئے حروف یا ہندسےاسی صفحے پر

پورٹل کے اوپر موجود Sign in کا بٹن اس عوامی سرچ کا حصہ نہیں، اس لیے اسے چھوڑ دیں۔

نتیجہ نہ آئے تو کیا کریں

اگر گاڑی پر کیمرہ چالان ہیں تو پورٹل انہیں پی ایس سی اے کے ریکارڈ کے مطابق دکھا دیتا ہے۔ کچھ نہ ملے تو یا تو واقعی کوئی ای چالان نہیں، یا آپ کی لکھی ہوئی تین چیزوں میں سے کوئی ایک ریکارڈ سے نہیں مل رہی۔ اطمینان سے پہلے یہ ترتیب دیکھیں:

  • پلیٹ کے خانے اور ڈیش۔ پرانی اور نئی سیریز الگ لکھی جاتی ہیں۔ ABC 0000 کے ساتھ ABC-00-0000 بھی آزمائیں۔
  • شناختی کارڈ۔ وہی نمبر چاہیے جس کے نام گاڑی رجسٹرڈ ہے، چلانے والے کا نہیں۔ گاڑی نئی خریدی ہے اور ٹرانسفر مکمل نہیں تو چیسس نمبر استعمال کریں۔
  • چیسس نمبر۔ اسے یاد داشت سے نہیں، رجسٹریشن بک سے دیکھ کر لکھیں۔

گاڑی کس کے نام ہے، یہ معلوم نہ ہو تو پہلے ہماری ایم ٹی ایم آئی ایس گاڑی تصدیق گائیڈ دیکھیں۔ اس میں ایکسائز کے سرکاری پورٹل پر گاڑی کا رجسٹریشن ریکارڈ دیکھنے کا طریقہ ہے۔

کون سے چالان اس پورٹل پر نہیں آتے

پی ایس سی اے کے سسٹم میں سیف سٹی کیمروں سے بننے والے الیکٹرانک چالان ہوتے ہیں۔ سڑک پر ٹریفک وارڈن کا ہاتھ سے دیا گیا پرچی والا چالان ٹریفک پولیس کے ریکارڈ کا حصہ ہے اور ہو سکتا ہے اس سرچ میں نہ آئے۔

اگر آپ کی پرچی پر چالان نمبر لکھا ہے تو اسے سنبھال کر رکھیں۔ بینک کاؤنٹر یا ای پے ایپ پر ادائیگی کے لیے یہی نمبر کام آتا ہے، چاہے چالان آن لائن نظر آئے یا نہ آئے۔

پنجاب میں ای چالان کی ادائیگی کیسے ہوتی ہے

حکومت پنجاب نے یکم جنوری 2021 کو ای پے پنجاب ایپ کے ذریعے ای چالان کی آن لائن ادائیگی کا اعلان کیا تھا۔ پنجاب پورٹل پر موجود اسی سرکاری اعلان کے مطابق شہری ادائیگی کر سکتے ہیں:

  • 23 بینکوں کی موبائل بینکنگ سے
  • 18 بینکوں کی انٹرنیٹ بینکنگ سے
  • 21 بینکوں کے اے ٹی ایم سے
  • 28 بینکوں کے کاؤنٹر پر
  • ایزی پیسہ، جاز کیش، ایچ بی ایل کونیکٹ، یو بی ایل اومنی اور ٹی سی ایس جیسی سروسز سے

ای پے پنجاب کا پتہ epay.punjab.gov.pk ہے، اور یہی ایپ ٹوکن ٹیکس جیسے دیگر سرکاری واجبات کی ادائیگی بھی کرتی ہے۔ ہماری ٹوکن ٹیکس گائیڈ میں پی ایس آئی ڈی سے ٹیکس چیک اور ادا کرنے کا طریقہ درج ہے۔ بینکوں کی فہرست بدلتی رہتی ہے، اس لیے تازہ فہرست ای پے پنجاب کے “where to pay” حصے میں دیکھیں۔

پی ایس سی اے کی اپنی مفت موبائل ایپ PSCA Public Safety بھی ہے، جو گوگل پلے اور ایپ اسٹور پر موجود ہے۔

پرچی نہ آئے تب بھی چیک کیوں کریں

کیمرہ چالان گاڑی کے خلاف درج ہوتا ہے اور اس کی اطلاع رجسٹریشن ریکارڈ میں لکھے پتے پر بھیجی جاتی ہے۔ اگر آپ نے گھر بدل لیا، گاڑی حال ہی میں خریدی، یا ٹرانسفر مکمل نہیں ہوا تو پرچی کسی اور کے پاس پہنچ سکتی ہے جبکہ چالان آپ کی گاڑی پر رہتا ہے۔ بعد میں ایکسائز کے دفتر میں کام رک سکتا ہے، اس لیے گاڑی بیچنے، منتقل کرانے یا ٹوکن ٹیکس جمع کرانے سے پہلے دو منٹ کی یہ سرچ فائدہ مند ہے۔

یہی بات اس وقت بھی ہے جب آپ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کسی کو دیتے ہیں۔ چالان چلانے والے کا نہیں، گاڑی کا پیچھا کرتا ہے۔

ساتھ ہی یہ دو کام بھی کر لیں

جعلی چالان پیغامات اور ایجنٹوں سے بچیں

سرکاری پورٹل پر چالان دیکھنا مفت ہے اور کوئی ایجنٹ پیسے لے کر چالان ختم نہیں کروا سکتا۔ ان باتوں کا خیال رکھیں:

  • ایس ایم ایس یا واٹس ایپ لنک جن میں کہا جائے کہ آپ کا چالان بقایا ہے اور لنک سے ادائیگی کریں۔ لنک دبانے کے بجائے خود echallan.psca.gop.pk لکھ کر کھولیں۔
  • او ٹی پی یا اے ٹی ایم پن مانگنے والا ہر شخص۔ کسی سرکاری دفتر کو ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔
  • فیس مانگنے والی ویب سائٹیں جو چالان “چیک” یا “ختم” کرنے کا دعویٰ کریں۔

کوئی چالان ختم کرانے کے پیسے مانگے تو پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایت کریں یا قریبی پولیس خدمت مرکز جائیں۔

گو پنجاب ایک آزاد ویب سائٹ ہے۔ ہم چالان جاری، چیک یا ختم نہیں کرتے اور نہ کسی کی گاڑی کا ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں۔ آخری تصدیق ہمیشہ سرکاری پورٹل پر کریں۔