گاڑی ٹرانسفر پنجاب میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کرتا ہے، جو گاڑیوں کا سرکاری ریکارڈ رکھتا ہے۔ جب آپ کار یا موٹر سائیکل خریدتے یا بیچتے ہیں تو ریکارڈ فروخت کنندہ کے نام سے خریدار کے نام منتقل ہونا ضروری ہے۔ جب تک یہ نہ ہو، قانون کی نظر میں مالک پرانا ہی رہتا ہے اور سارا خطرہ خریدار پر ہوتا ہے۔
گاڑی ٹرانسفر پنجاب کے 3 آسان مرحلے
- پہلے گاڑی چیک کریں۔ سرکاری ایم ٹی ایم آئی ایس پورٹل پر ریکارڈ دیکھیں اور بقایا ٹوکن ٹیکس اور ای چالان چیک کریں۔
- درخواست دیں اور ادائیگی کریں۔ ای پے پنجاب پر “Transfer of Ownership for Motor Vehicle” کی سروس شروع کریں، یا ایکسائز دفتر یا ای خدمت مرکز میں درخواست دیں۔ فیس اور ٹیکس 17 ہندسوں کی پی ایس آئی ڈی سے ادا کریں۔
- بائیو میٹرک کرائیں۔ فروخت کنندہ اور خریدار دونوں انگوٹھے یا چہرے سے اپنی شناخت کی تصدیق کرتے ہیں، جو اب نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ پر بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ایکسائز کے افسران ٹرانسفر کی منظوری دیتے ہیں۔

خریدنے سے پہلے ریکارڈ چیک کریں
ٹرانسفر کسی خراب گاڑی کو ٹھیک نہیں کر سکتا۔ فروخت کنندہ کو پیسے دینے سے پہلے یہ کام کریں:
- ایم ٹی ایم آئی ایس: mtmis.excise.punjab.gov.pk کھولیں اور رجسٹریشن نمبر کے ساتھ رجسٹریشن کی تاریخ درج کریں۔ نتیجہ فروخت کنندہ کے کاغذات اور گاڑی پر لکھے انجن اور چیسس نمبر سے ملائیں۔ ہماری ایم ٹی ایم آئی ایس گاڑی تصدیق گائیڈ میں ہر خانے کی وضاحت ہے۔
- ٹوکن ٹیکس: فروخت کنندہ سے کہیں کہ ای پے پنجاب پر واجب ٹیکس دکھائے۔ بقایا ٹوکن ٹیکس گاڑی کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ ہماری ٹوکن ٹیکس آن لائن چیک گائیڈ دیکھیں۔
- ای چالان: بقایا کیمرہ چالان ہماری ای چالان چیک گائیڈ سے دیکھیں۔
کوئی چیز نہ ملے تو ادائیگی نہ کریں۔
پنجاب میں گاڑی ٹرانسفر کے کاغذات
محکمہ ایکسائز کے گاڑی رجسٹریشن صفحے پر ملکیت کی منتقلی کے لیے یہ کاغذات درج ہیں:
- مقررہ نمونے کا ٹرانسفر آرڈر (T.O.) فارم
- فروخت کنندہ کے شناختی کارڈ کی کاپی
- خریدار کے شناختی کارڈ کی کاپی
- گواہوں کی کاپیاں
- اصل رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (رجسٹریشن بک یا کارڈ)، جس پر ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی تازہ ہو
- اصل رجسٹریشن فائل، اگر گاڑی “فائل ریٹرن اسکیم” کے تحت رجسٹرڈ ہوئی تھی
ای خدمت مرکز کے گاڑی ٹرانسفر والے صفحے پر ٹی او فارم کے ساتھ مقررہ ٹرانسفر ڈیڈ بھی لکھی ہے۔
2026-27 کی ٹرانسفر فیس اور ٹیکس
یکم اکتوبر 2026 تک ایکسائز کے موٹر وہیکل ٹیکس صفحے پر یہ ٹرانسفر فیس درج ہے:
| گاڑی | ٹرانسفر فیس |
|---|---|
| موٹر سائیکل یا اسکوٹر | 910 روپے |
| 1000 سی سی تک کار | 4,540 روپے |
| 1001 سے 1800 سی سی کار | 9,075 روپے |
| 1800 سی سی سے بڑی کار | 18,150 روپے |
| ہیوی ٹرانسپورٹ گاڑی (HTV) | 9,075 روپے |
فیس ہر بجٹ کے ساتھ بدل سکتی ہے، اس لیے ادائیگی سے پہلے یہ صفحہ ضرور دیکھیں۔
ٹرانسفر فیس ہمیشہ پورا بل نہیں ہوتی۔ اسی صفحے پر کچھ اور رقوم بھی درج ہیں جو ٹرانسفر پر لگ سکتی ہیں:
- لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس۔ اگر موٹر سائیکل رجسٹریشن کے دس سال کے اندر ٹرانسفر ہو تو 1,500 روپے لیے جاتے ہیں، ہر مالی سال پر 10 فیصد رعایت کے ساتھ۔ 1000 سی سی تک کار کے لیے انہی شرائط پر 20,000 روپے ہیں۔
- ود ہولڈنگ انکم ٹیکس۔ صفحے پر ٹرانسفر کی ایک الگ ٹیبل ہے جس میں نان فائلر کے لیے رقم فائلر سے زیادہ ہے۔
- کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی)۔ 1300 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر صفحے کے مطابق رجسٹریشن کے بعد ابتدائی برسوں میں ہر ٹرانسفر پر قیمت کا 1 فیصد سی وی ٹی لگتا ہے، اور قیمت ہر سال 10 فیصد کم مانی جاتی ہے۔
- بقایا ٹوکن ٹیکس۔ اگر گاڑی پر ٹوکن ٹیکس واجب ہے تو وہ بھی ٹرانسفر کی پی ایس آئی ڈی میں شامل ہو جاتا ہے۔
آپ کی گاڑی کی پوری رقم پی ایس آئی ڈی پر نظر آتی ہے۔ ایکسائز کی ویب سائٹ پر ٹرانسفر آف اونرشپ کیلکولیٹر کا لنک بھی ہے، مگر یکم اکتوبر 2026 کو ہم نے کھولا تو اس پر خرابی آئی۔
گاڑی ٹرانسفر کی درخواست کیسے دیں
ای پے پنجاب کے ذریعے آن لائن
ایکسائز کی ویب سائٹ پر موجود ایک رہنما دستاویز آن لائن طریقہ یوں بتاتی ہے:
- epay.punjab.gov.pk پر لاگ ان کریں، Excise & Taxation کھولیں اور پھر Transfer of Ownership for Motor Vehicle منتخب کریں۔
- رجسٹریشن نمبر لکھیں۔ ای پے گاڑی کا میک، چیسس نمبر، موجودہ مالک اور ٹیکس کی صورتحال دکھاتا ہے۔
- خریدار کی تفصیل درج کریں: شناختی کارڈ نمبر، نام، والد کا نام، پتہ، شہر، موبائل نمبر اور وہ ضلع جہاں ٹرانسفر کی کارروائی کرانی ہے۔
- بتائیں کہ گاڑی ہائر پرچیز (بینک یا لیزنگ کمپنی کی قسطوں) پر ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو کمپنی کا نام اور این ٹی این بھی لکھیں۔
- 17 ہندسوں کی پی ایس آئی ڈی بنائیں اور بینک، اے ٹی ایم یا والٹ سے ادا کریں۔
- فروخت کنندہ اور خریدار کی بائیو میٹرک تصدیق مکمل کریں۔ پھر ایکسائز کے افسران درخواست منظور کرتے ہیں اور اسے مکمل قرار دیا جاتا ہے۔
درخواست کی صورتحال ایم ٹی ایم آئی ایس پورٹل پر Application Tracking میں درخواست نمبر اور چیسس نمبر سے دیکھی جا سکتی ہے۔
دفتر جا کر
آپ اپنے ضلع کے ایکسائز دفتر (موٹر رجسٹریشن اتھارٹی) یا ای خدمت مرکز میں بھی درخواست دے سکتے ہیں۔ ای خدمت کے سروس صفحے کے مطابق ٹرانسفر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر جاری کرتا ہے، فیس گاڑی کی قسم پر منحصر ہے، اور کام تقریباً 7 ورکنگ دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ ہماری ای خدمت مرکز گائیڈ میں مراکز کا طریقہ کار درج ہے۔
بائیو میٹرک تصدیق اور پاک آئی ڈی ایپ
دونوں مالکان کی بائیو میٹرک تصدیق پنجاب میں جنوری 2022 سے ٹرانسفر کا حصہ ہے، جب محکمہ ایکسائز نے اسے شروع کیا۔ محکمے کے ہوم پیج پر اعلان ہے کہ رجسٹریشن اور ٹرانسفر کی بائیو میٹرک نادرا کی پاک آئی ڈی (Pak Identity) ایپ سے جنوری 2026 کے آخری ہفتے سے شروع ہوگی۔
پرو پاکستانی نے فروری 2026 میں بتایا کہ یہ ایپ نادرا اور پی آئی ٹی بی کے ساتھ مل کر شروع کی گئی، اور اس میں چہرے سے تصدیق کا آپشن بھی ہے، جو ان بزرگوں کے لیے مفید ہے جن کے انگوٹھے کے نشان مدھم ہو چکے ہوں۔ جولائی 2026 میں اس نے طریقہ بتایا: فروخت کنندہ پاک آئی ڈی میں گاڑی منتخب کر کے تصدیق کرتا ہے، خریدار کا شناختی کارڈ نمبر لکھتا ہے اور ٹریکنگ آئی ڈی اور پن حاصل کرتا ہے۔ خریدار یہ دونوں درج کر کے اپنی تصدیق کرتا ہے۔ پاک آئی ڈی صرف بائیو میٹرک کا مرحلہ ہے، ایکسائز کی باقی کارروائی پھر بھی کرنی ہوتی ہے۔
بائیو میٹرک کو التوا میں نہ چھوڑیں۔ 2024 کے ایک ایکسائز اشتہار میں کہا گیا تھا کہ آن لائن ٹرانسفر کی درخواست کے 30 دن کے اندر خریدار اور فروخت کنندہ نے بائیو میٹرک نہ کرائی تو درخواست منسوخ ہو جائے گی اور فیس دوبارہ دینی ہوگی۔
اوپن لیٹر خطرناک کیوں ہے
بہت سی پرانی گاڑیاں “اوپن لیٹر” پر بکتی ہیں، یعنی دستخط شدہ ٹرانسفر فارم جو خریدار اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور ٹرانسفر مکمل نہیں کراتا۔ محکمہ ایکسائز صاف کہتا ہے کہ اوپن ٹرانسفر لیٹر یا غلط ایڈریس کے ساتھ گاڑی چلانا جرم ہے۔ اس کے اشتہار میں یہ مشکلات درج ہیں:
- گاڑی کا چالان
- رجسٹریشن کی بندش یا منسوخی
- ای چالان کی وصولی اور ادائیگی میں دشواری
- قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی
- غیر ضروری مقدمہ بازی
اشتہار میں کہا گیا ہے کہ گاڑی فوری طور پر متعلقہ موٹر رجسٹریشن اتھارٹی سے اپنے نام ٹرانسفر کرائیں اور اپنا درست پتہ ریکارڈ میں درج کرائیں۔ محکمے کا 2026 کا ٹوکن ٹیکس اشتہار بھی یہی کہتا ہے: گاڑی فوراً اپنے نام کرائیں، اور کسی سے بھی گاڑی خریدتے وقت بائیو میٹرک لینا نہ بھولیں۔
دھوکے سے بچیں
- صرف سرکاری ذرائع استعمال کریں: excise.punjab.gov.pk، epay.punjab.gov.pk، mtmis.excise.punjab.gov.pk، سرکاری ایپ اسٹور سے پاک آئی ڈی ایپ، ایکسائز دفتر یا ای خدمت مرکز۔
- او ٹی پی، پن یا پاک آئی ڈی کا ٹریکنگ پن اس گاڑی کے اصل خریدار یا فروخت کنندہ کے سوا کسی کو نہ دیں۔
- پی ایس آئی ڈی خود بنائیں۔ ایس ایم ایس یا واٹس ایپ پر آئی پی ایس آئی ڈی یا لنک سے ادائیگی نہ کریں۔
- “بائیو میٹرک کے بغیر” ٹرانسفر کا وعدہ کرنے والے ایجنٹ کو پیسے نہ دیں۔ اس کے بغیر کوئی قانونی ٹرانسفر نہیں ہوتا۔
- چوری شدہ گاڑی کی جانچ کے لیے پنجاب پولیس پولیس خدمت مرکز پر گاڑی کی تصدیق کرتی ہے۔
اگر کوئی اہلکار رشوت مانگے تو پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایت کریں۔
ایکسائز ہیلپ لائن
محکمہ ایکسائز نے اپنے رابطہ صفحے پر عام سوالات کے لیے 0800-08786 دیا ہے، اور اس کے ہوم پیج پر ہیلپ لائن 1035 درج ہے۔ اگر پی ایس آئی ڈی پر رقم غلط لگے تو ادائیگی سے پہلے کال کریں۔
گو پنجاب ایک آزاد ویب سائٹ ہے۔ ہم محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول، نادرا یا ای پے پنجاب نہیں ہیں، اور کسی گاڑی کا ٹرانسفر، تصدیق یا ٹیکس نہیں کر سکتے۔ آخری کارروائی ہمیشہ سرکاری پورٹل یا سرکاری دفتر پر کریں۔
