ڈیتھ سرٹیفکیٹ آن لائن پنجاب میں عموماً وہ پہلا کاغذ ہے جو کسی کی وفات کے بعد گھر والوں کو چاہیے ہوتا ہے: شناختی کارڈ منسوخ کرانے، پنشن لینے، بینک اکاؤنٹ بند کرانے یا وراثت طے کرنے کے لیے۔ یہ گائیڈ بتاتی ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ کون جاری کرتا ہے، آن لائن یا گھر بیٹھے کیا ہو سکتا ہے، کون سی دستاویزات چاہئیں، ستمبر 2026 تک فیس کیا ہے، اور اس کے بعد نادرا میں کیا کرنا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ مشکل وقت ہے۔ نیچے کے مراحل قواعد کے اندر رہتے ہوئے جتنا ہو سکے مختصر رکھے گئے ہیں۔

ڈیتھ سرٹیفکیٹ آن لائن پنجاب کا عمل کیسے چلتا ہے

پنجاب میں جس یونین کونسل (یا میونسپل کمیٹی یا کنٹونمنٹ بورڈ) میں گھرانہ رہتا ہے، وہی موت کا اندراج کر کے کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ محکمہ بلدیات کے سوال و جواب کے مطابق یونین کونسل یا میونسپل کمیٹی “کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ” جاری کرتی ہے۔ یونین کونسلیں یہ کام سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) میں کرتی ہیں، جو نادرا صوبائی اور مقامی حکومتوں کو فراہم کرتا ہے۔

نادرا کا کردار اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ نادرا خود ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتا۔ وہ یونین کونسل کے سرٹیفکیٹ سے مرحوم کا شناختی کارڈ منسوخ کرتا ہے، خاندانی ریکارڈ اپ ڈیٹ کرتا ہے اور جانشینی سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے۔ قواعد lgcd.punjab.gov.pk پر ہیں، اور نادرا کی خدمات nadra.gov.pk پر۔

ڈیتھ سرٹیفکیٹ آن لائن پنجاب: گو پنجاب اہم معلومات کارڈ
یونین کونسل موت کا اندراج کر کے سرٹیفکیٹ دیتی ہے۔ پھر نادرا اسی سے شناختی کارڈ منسوخ کرتا ہے۔

ایک سال کے اندر موت کی اطلاع دیں

پنجاب لوکل گورنمنٹ (رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس) رولز 2025 کے مطابق کوئی رشتہ دار جتنی جلدی ہو سکے، اور ایک سال کے اندر، فارم بی پر موت کی اطلاع دے، دفتر جا کر یا آن لائن نظام کے ذریعے۔ ہسپتال بھی اطلاع دے سکتا ہے، مگر درخواست پھر بھی گھر والوں کو دینی ہوتی ہے۔ آن لائن درخواست کی صورت میں یونین کونسل تفصیلات کی تصدیق کے لیے بلا سکتی ہے، جہاں آپ دستخط یا انگوٹھا لگاتے ہیں۔

زیادہ وقت گزر جائے تو طریقہ لمبا ہو جاتا ہے:

اطلاع کب دی2025 کے قواعد میں کیا ہوتا ہے
ایک سال کے اندریونین کونسل اندراج کر کے سرٹیفکیٹ دیتی ہے
ایک سال کے بعد، سات سال تکڈپٹی ڈائریکٹر کی سربراہی میں کمیٹی جانچ کرتی ہے، اخبار میں اعتراضات کا اشتہار آتا ہے (خرچ آپ کا)، اور 30 دن میں فیصلہ ہوتا ہے
سات سال کے بعداندراج کے لیے عدالتی ڈگری چاہیے

بیرون ملک وفات کی صورت میں قواعد پاکستان میں اندراج کے لیے چھ ماہ دیتے ہیں۔ غیر ملکی ہسپتال کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ پاکستانی سفارت خانے یا قونصل خانے سے تصدیق شدہ ہو، اور مرحوم اور رشتہ دار کے شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ کاپیاں ساتھ ہوں۔

کون سی دستاویزات چاہئیں

ایک سال کے اندر اطلاع کے لیے 2025 کے قواعد یہ مانگتے ہیں:

  • فارم بی، موت کے اندراج کا فارم
  • درخواست دہندہ اور مرحوم کے شناختی کارڈ کی کاپیاں
  • ہسپتال میں وفات ہو تو ہسپتال کی ڈیتھ سلپ، جس پر وجہ موت لکھی ہو
  • اگر ہو تو قبرستان انتظامیہ کمیٹی کی تدفین کی پرچی

ای خدمت مرکز بیان حلفی اور گواہوں کے شناختی کارڈ بھی مانگتا ہے، اور اصل کاغذات کے ساتھ گریڈ 17 یا اوپر کے افسر سے تصدیق شدہ کاپیاں۔ اگر وفات گھر پر ہوئی ہو تو ای خدمت مرکز کے مطابق پہلے قریبی ای خدمت مرکز سے رابطہ کریں۔

دیر سے اندراج (ایک سے سات سال) میں کسی رشتہ دار کا 300 روپے کے اسٹامپ پیپر پر بیان حلفی بھی لگتا ہے، جس پر تدفین کے وقت موجود دو افراد گواہ ہوں، اور مرحوم اور رشتہ دار کے شناختی کارڈ یا برتھ سرٹیفکیٹ کی کاپیاں۔

آن لائن یا گھر بیٹھے کیا ہو سکتا ہے

  • آن لائن درخواست۔ 2025 کے قواعد رشتہ دار کو “آن لائن نظام” کے ذریعے درخواست کی اجازت دیتے ہیں۔ اے پی پی کی اکتوبر 2025 کی خبر کے مطابق نادرا نے 2025 میں پنجاب کے تین اضلاع میں پاک آئی ڈی (PakID) ایپ سے موت کے اندراج کا تجربہ کیا۔ پروپاکستانی کے مطابق نومبر 2025 میں پنجاب کے محکمہ بلدیات اور نادرا نے معاہدہ کیا کہ سرٹیفکیٹ پاک آئی ڈی سے مل سکیں۔
  • گھر پر سہولت۔ دستک سٹیزن ایپ میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی سروس موجود ہے۔ سہولت کار گھر آ کر کاغذات لیتا ہے اور سرٹیفکیٹ واپس لاتا ہے۔ مدد کے لیے 1202 پر کال کریں، یا ہماری مریم کی دستک گائیڈ پڑھیں۔
  • ون ونڈو کاؤنٹر۔ ای خدمت مرکز پیر سے ہفتہ، صبح 9 سے شام 5 بجے تک ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی درخواست لیتا ہے۔

فیس

ستمبر 2026 تک:

  • اندراج اور کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹ: مفت، سات سال کے اندر۔ 2025 کے قواعد میں اس کی فیس صفر ہے، ڈان نے مئی 2025 میں بتایا کہ سات سال کے اندر اندراج کی تمام فیسیں معاف کر دی گئیں، اور ایکسپریس ٹریبیون نے جولائی 2026 میں بتایا کہ یہ فیسیں ختم ہو چکی ہیں۔
  • سات سال کے بعد: 2025 کے قواعد میں 1,000 روپے۔ پروپاکستانی کے مطابق ستمبر 2026 میں حکومت نے دیر سے اندراج کی فیس کی چھوٹ مزید تین سال بڑھا دی، اس لیے ادائیگی سے پہلے یونین کونسل سے پوچھیں۔
  • دوسری کاپی: 200 روپے، اسی دن۔ درستگی: 500 روپے، یا غلطی دفتر کی ہو تو مفت۔
  • وفات کے بعد نادرا میں شناختی کارڈ کی منسوخی: نادرا کے فیس صفحے کے مطابق مفت، ایک دن میں۔
  • دستک: گھر آنے کی سروس فیس الگ لگتی ہے۔

ای خدمت مرکز کے صفحے پر اب بھی 200 روپے پراسیسنگ فیس اور 7 ورکنگ دن لکھے ہیں۔ اس صفحے کی کچھ باتیں، جیسے 60 دن کے بعد ہر کیس عدالت بھیجنا، 2025 کے قواعد سے میل نہیں کھاتیں، اس لیے یہ پرانا ہو سکتا ہے۔ ہر ادائیگی پر پوچھیں کہ یہ کس چیز کی ہے، اور رسید لیں۔

سرٹیفکیٹ کے بعد: نادرا اور اگلے کام

1. شناختی کارڈ منسوخ کرائیں۔ نادرا کے مطابق اس کے لیے یونین کونسل، کنٹونمنٹ بورڈ یا سی ڈی اے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔ منسوخی مفت ہے، ایک دن لگتا ہے، اور کسی بھی نادرا سینٹر یا پاک آئی ڈی ایپ سے ہو سکتی ہے۔ وہی ضلع ہونا ضروری نہیں جہاں وفات ہوئی، کوئی وقت کی حد نہیں، اور اگر اصل شناختی کارڈ گم ہو گیا ہو تو تصدیق شدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ نمبر کافی ہے۔

2. خاندانی ریکارڈ اپ ڈیٹ کرائیں۔ بیوہ کی ازدواجی حیثیت اور خاندان کا ریکارڈ نادرا میں درست ہونا چاہیے۔ پنجاب کی کچھ اسکیمیں یہ دیکھتی ہیں، جیسے بیواؤں کے لیے رحمت کارڈ۔ ہماری نادرا ایف آر سی گائیڈ بتاتی ہے کہ نادرا نے آپ کا خاندان کیسے درج کیا ہے۔

3. جائیداد یا رقم ہو تو جانشینی سرٹیفکیٹ لیں۔ نادرا عدالت جائے بغیر جانشینی سرٹیفکیٹ اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن جاری کرتا ہے۔ اس کے لیے ڈیتھ سرٹیفکیٹ، نادرا کا شناختی کارڈ منسوخی سرٹیفکیٹ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، ورثا کی فہرست اور ان کے شناختی کارڈ کی کاپیاں، جائیداد کی تفصیل اور تصدیق شدہ بیان حلفی چاہیے۔ نادرا کے مطابق ایک لاکھ روپے یا زیادہ کے اثاثوں پر فیس 20,000 روپے، اس سے کم پر 10,000 روپے ہے، اور اشتہار کے تقریباً 14 دن بعد سرٹیفکیٹ ملتا ہے۔

4. پنشن۔ وارث کی پنشن کے لیے بھی ڈیتھ سرٹیفکیٹ چاہیے، مثلاً ای او بی آئی پنشن۔

کسی مرحوم رشتہ دار کی رقم یا جائیداد کے لیے ہر مرحلہ ہماری نادرا سکسیشن سرٹیفکیٹ گائیڈ بتاتی ہے۔

غلطی درست کرانا یا دوسری کاپی لینا

  • لکھائی کی غلطی: کوئی رشتہ دار سادہ کاغذ پر یونین کونسل کو درخواست دیتا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر 15 دن کے اندر اعتراضات کا اشتہار دیتا ہے، پھر درستگی کا حکم دیتا ہے۔
  • کوئی اور تبدیلی: 2025 کے قواعد کے مطابق عدالتی ڈگری چاہیے۔
  • دوسری کاپی: کوئی بھی رشتہ دار یا دوسرا شخص تصدیق شدہ شناختی کارڈ کی کاپی اور 200 روپے کے ساتھ درخواست دے سکتا ہے۔

دھوکے سے بچیں

  • سات سال کے اندر موت کا اندراج مفت ہے۔ سرٹیفکیٹ “بنوانے” کے لیے کسی کو پیسے دینے کی ضرورت نہیں۔
  • صرف یونین کونسل، ای خدمت مرکز، دستک سٹیزن ایپ سے بک کیا گیا سہولت کار، یا نادرا استعمال کریں۔
  • کبھی او ٹی پی یا پاس ورڈ کسی کو نہ دیں۔ وفات کے بعد اکثر گھرانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اس لیے پنشن یا بینک کے نام پر آنے والی کالوں سے ہوشیار رہیں۔
  • رشوت مانگی جائے یا کام بہت دیر سے رکا ہو تو پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایت کریں۔

متعلقہ مدد

یہ دیکھنے کے لیے کہ آپ کا گھرانہ کن پنجاب اور وفاقی پروگراموں کے لیے اہل ہو سکتا ہے، ہمارا مفت اہلیت چیکر آزمائیں۔

گو پنجاب ایک آزاد معلوماتی ویب سائٹ ہے۔ ہم یونین کونسل، محکمہ بلدیات یا نادرا نہیں۔ ہم موت کا اندراج یا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکتے۔ ہم صرف سرکاری طریقہ سمجھاتے ہیں تاکہ آپ یہ کام خود کر سکیں۔