نادرا ٹریکنگ آئی ڈی چیک سے آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کے شناختی کارڈ، نائیکوپ، ایف آر سی یا ب فارم (B-Form) کی درخواست کس مرحلے پر ہے۔ ستمبر 2026 تک اس کا سرکاری طریقہ نادرا کی پاک آئی ڈی (PakID) موبائل ایپ ہے، جو گوگل پلے اور ایپ اسٹور پر Pak Identity کے نام سے ہے۔ آپ کو دو چیزیں چاہییں: اپنی ٹریکنگ آئی ڈی اور اس کا پن۔ یہ گائیڈ بتاتی ہے کہ یہ دونوں کہاں ملتے ہیں، ٹریک کرنے کے سب سرکاری طریقے کیا ہیں، اور کارڈ دیر سے آئے تو کیا کریں۔

نادرا ٹریکنگ آئی ڈی چیک کے 3 آسان مرحلے

  1. پاک آئی ڈی ایپ کھولیں اور لاگ ان کریں۔ ایپ صرف nadra.gov.pk پر دیے گئے اسٹور لنکس سے انسٹال کریں۔
  2. ہوم اسکرین پر Tracking دبائیں۔
  3. اپنی ٹریکنگ آئی ڈی اور پن کوڈ درج کریں۔ ایپ آپ کی درخواست کی تازہ ترین صورتحال دکھا دے گی۔

یہ مرحلے نادرا کے اپنے پاک آئی ڈی عمومی سوالات سے لیے گئے ہیں۔ ٹریکنگ مفت ہے۔

نادرا ٹریکنگ آئی ڈی چیک: گو پنجاب اہم معلومات کارڈ
پاک آئی ڈی ایپ میں ہوم اسکرین پر Tracking دبائیں اور درخواست کی صورتحال دیکھنے کے لیے ٹریکنگ آئی ڈی اور پن درج کریں۔

اگر آپ پاسپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں تو وہ نادرا نہیں بلکہ ڈی جی آئی پی کا کام ہے، اس کے لیے ہماری پاسپورٹ ٹریکنگ گائیڈ دیکھیں۔

ٹریکنگ آئی ڈی اور پن کہاں ملتے ہیں

ٹریکنگ آئی ڈی وہ نمبر ہے جو نادرا ہر درخواست کو دیتا ہے۔ پن اس کے ساتھ ایک چھوٹا کوڈ ہے۔ ٹریک کرنے کے لیے دونوں ضروری ہیں، اور دستاویز اپلوڈ کرنے، فیس ادا کرنے یا کسی رشتہ دار سے تصدیق کروانے پر بھی نادرا یہی مانگتا ہے۔

آپ نے درخواست کیسے دیٹریکنگ آئی ڈی اور پن کہاں ملیں گے
پاک آئی ڈی ایپ سےہوم اسکرین پر Applications آئیکن دبائیں۔ ہر درخواست اپنی ٹریکنگ آئی ڈی اور پن کے ساتھ درج ہے۔
نادرا سینٹر پرآپ کی رسید پر۔ پرو پاکستانی نے ستمبر 2026 میں بتایا کہ نادرا نے درخواست گزاروں کو رسید پر درج ٹریکنگ آئی ڈی اور پن استعمال کرنے کا کہا ہے۔
کسی رشتہ دار کے پاک آئی ڈی اکاؤنٹ سےاسی رشتہ دار کے اکاؤنٹ میں Applications کے اندر۔ ان سے ٹریکنگ آئی ڈی اور پن لے لیں۔

نادرا سینٹر پر نادرا کے بتائے ہوئے مرحلے یہ ہیں: ٹوکن لیں، تصویر اور انگلیوں کے نشانات دیں، ڈیٹا کی جانچ کروائیں، فیس ادا کریں، اور پراسیسنگ مدت پوری ہونے پر کارڈ وصول کریں۔ کارڈ ہاتھ میں آنے تک رسید سنبھال کر رکھیں۔

ٹریک کرنے کے تمام سرکاری طریقے

1. پاک آئی ڈی ایپ

یہی طریقہ نادرا اپنی ویب سائٹ پر بتاتا ہے۔ لاگ ان کریں، Tracking دبائیں، اور ٹریکنگ آئی ڈی اور پن درج کریں۔ نادرا کا رابطے والا صفحہ بھی کہتا ہے کہ آپ پاک آئی ڈی میں اپنے ایپلیکیشن ان باکس سے صورتحال دیکھ سکتے ہیں۔ اگر درخواست مسترد ہو جائے تو وجہ جاننے کے لیے اس کی ٹریکنگ آئی ڈی پر ٹیپ کریں۔

ستمبر 2026 تک ہمیں nadra.gov.pk پر ٹریکنگ کا کوئی فارم نہیں ملا۔ ویب سائٹ آپ کو ایپ کی طرف بھیجتی ہے۔

2. 8400 پر ایس ایم ایس

پرو پاکستانی نے 7 ستمبر 2026 کو نادرا کے حوالے سے بتایا کہ اسٹیٹس جاننے کے لیے آپ اپنی ٹریکنگ آئی ڈی ایس ایم ایس کے ذریعے 8400 پر بھیج سکتے ہیں۔ پیغام میں صرف ٹریکنگ آئی ڈی لکھ کر بھیجیں۔

نادرا کی ویب سائٹ شناختی کارڈز کے لیے یہ سروس بیان نہیں کرتی۔ وہاں 8400 کوڈ کا ذکر صرف مہاجرین کی رجسٹریشن کے ایک منصوبے میں کارڈ ٹریکنگ کے لیے ہے۔ ایس ایم ایس کو متبادل سمجھیں، اور جواب نہ آئے تو ایپ استعمال کریں۔

3. 1777 ہیلپ لائن

نادرا کی ہیلپ لائن موبائل سے 1777 یا +92 51 111 786 100 ہے۔ اپنی ٹریکنگ آئی ڈی اور شناختی کارڈ نمبر تیار رکھیں۔ نادرا کے عمومی سوالات کے مطابق درخواست کے بارے میں پوچھتے وقت دونوں بتائیں۔

4. نادرا کی طرف سے آنے والے پیغامات

ہر بار خود چیک کرنا ضروری نہیں۔ نادرا کے پاک آئی ڈی عمومی سوالات کے مطابق:

  • پاکستان میں: درخواست جمع ہونے پر اور کارڈ پرنٹ ہونے پر ایس ایم ایس آتا ہے۔ ای میل بھی آتی ہے۔
  • بیرون ملک: چار مراحل پر ای میل آتی ہے: پاک آئی ڈی اکاؤنٹ کی رجسٹریشن، منظوری، مسترد ہونا یا التوا، فیس کی ادائیگی، اور کارڈ کی روانگی۔

ای میل نہ ملے تو اسپیم فولڈر دیکھ لیں۔

مراحل کا مطلب

نادرا ایپ میں دکھائے جانے والے اسٹیٹس الفاظ کی مکمل فہرست شائع نہیں کرتا۔ اس کے عمومی سوالات میں یہ مراحل درج ہیں:

مرحلہمطلب
جمع ہو گئینادرا کو آپ کی درخواست مل گئی۔ پاکستان میں ایس ایم ایس آتا ہے۔
منظور، مسترد یا التوانادرا افسر نے درخواست دیکھ لی۔ مسترد یا التوا ہو تو وجہ جاننے کے لیے ایپ میں ٹریکنگ آئی ڈی پر ٹیپ کریں۔
فیس ادا ہو گئیآپ نے ادائیگی کر دی۔ آپ کی کیٹیگری کا پراسیسنگ وقت اب شروع ہوتا ہے۔
کارڈ پرنٹ ہو گیاآپ کا کارڈ بن گیا۔ پاکستان میں ایس ایم ایس آتا ہے۔
کارڈ روانہ ہو گیاکارڈ کوریئر کے ذریعے نادرا سے نکل چکا ہے۔

دستاویز کی قسم کے لحاظ سے ٹریکنگ

  • شناختی کارڈ اور اسمارٹ شناختی کارڈ: ایپ میں ٹریک کریں۔ ستمبر 2026 تک نادرا کے فیس صفحے پر اسمارٹ شناختی کارڈ کا دورانیہ 31 دن (نارمل)، 23 دن (ارجنٹ) اور 9 دن (ایگزیکٹو) ہے۔ فیس اور دورانیہ بدل سکتے ہیں۔ پوری فیس ٹیبل کے لیے ہماری نادرا شناختی کارڈ آن لائن گائیڈ دیکھیں۔
  • نائیکوپ: ایپ میں ٹریک کریں۔ بیرون ملک درخواست گزاروں کو چار مراحل کی ای میل بھی آتی ہے۔ زون کے حساب سے فیس ہماری نائیکوپ آن لائن اپلائی گائیڈ میں ہے۔
  • ایف آر سی: نادرا کے مطابق فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منظوری کے عام طور پر ایک سے دو دن بعد پی ڈی ایف کی صورت میں ای میل ہوتا ہے، اور آپ اسے ایپ سے بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ کوریئر نہیں ہوتا۔ دیکھیں نادرا ایف آر سی آن لائن۔
  • ب فارم (CRC): ایپ میں نادرا نیا ب فارم صرف ایک سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے دیتا ہے۔ بڑے بچوں کے لیے نادرا سینٹر پر درخواست دیں، جہاں پراسیسنگ کے بعد ب فارم دیا جاتا ہے۔

اگر کارڈ یا دستاویز دیر سے آئے

ترتیب سے یہ کام کریں:

  1. دیکھیں کہ فیس ادا ہوئی ہے۔ نادرا کے مطابق دورانیہ ادائیگی کے بعد شروع ہوتا ہے۔
  2. کیس آفیسر کے پیغام کو دیکھیں۔ نادرا کہتا ہے کہ زیادہ تر تاخیر کسی نامکمل یا غلط دستاویز کی وجہ سے ہوتی ہے۔ افسر ای میل یا فون پر رابطہ کرتا ہے۔
  3. مانگی گئی دستاویز اپلوڈ کریں۔ ایپ میں Upload Docs دبائیں، ٹریکنگ آئی ڈی اور پن درج کریں، Get Details دبائیں، اور دستاویز جمع کرائیں۔
  4. کوریئر کا فون اٹھائیں۔ پاکستان میں کوریئر ترسیل سے پہلے کال کرتا ہے۔ اگر 3 دن تک رابطہ نہ ہو سکے تو کارڈ قریبی نادرا دفتر بھیج دیا جاتا ہے۔ بیرون ملک یہ قریبی پاکستانی مشن کو جاتا ہے۔
  5. کارڈ وقت پر وصول کریں۔ پرو پاکستانی کے مطابق نادرا نے یاد دلایا ہے کہ جو کارڈ آخری ترسیل کی تاریخ کے تین ماہ کے اندر وصول نہ کیا جائے وہ تلف کر دیا جاتا ہے، اور پھر نئی درخواست اور نئی فیس دینا پڑتی ہے۔
  6. کچھ نہ ہو تو شکایت کریں۔ complaints.nadra.gov.pk پر ٹریکنگ آئی ڈی، شناختی کارڈ نمبر اور اسکرین شاٹس کے ساتھ شکایت کریں، یا 1777 پر کال کریں۔

اگر کارڈ میں کوئی غلطی ہو تو اسی پورٹل پر غلطی کی تصویر کے ساتھ شکایت کریں۔

جعلی ٹریکنگ ویب سائٹس اور ایجنٹوں سے بچیں

  • اپنی ٹریکنگ آئی ڈی اور پن کسی اور ویب سائٹ پر نہ لکھیں۔ پن سے دوسرے لوگ آپ کی درخواست دیکھ اور اس پر کارروائی کر سکتے ہیں۔ نادرا کہتا ہے کہ nadra.gov.pk کے علاوہ کوئی ویب سائٹ سرکاری نہیں۔
  • پرو پاکستانی کے مطابق مئی 2026 میں نادرا نے کہا کہ اس کا کوئی مجاز ایجنٹ یا کنسلٹنٹ نہیں۔ کوئی بھی پیسوں کے بدلے آپ کا کارڈ جلدی نہیں بنوا سکتا۔
  • اپنا او ٹی پی یا پاک آئی ڈی پاس ورڈ کبھی کسی کو نہ بتائیں۔
  • پیسے مانگنے والے کی شکایت نادرا کے شکایت پورٹل یا پاکستان سٹیزن پورٹل پر کریں۔

انتظار کے دوران یہ دیکھنے کے لیے کہ آپ کے شناختی کارڈ پر کون سی سمیں رجسٹرڈ ہیں، ہماری شناختی کارڈ سم چیک گائیڈ پڑھیں۔

GoPunjab ایک آزاد ویب سائٹ ہے۔ ہم نادرا نہیں ہیں، اور ہم آپ کی درخواست یا اس کی صورتحال نہیں دیکھ سکتے۔ ٹریکنگ ہمیشہ پاک آئی ڈی ایپ یا نادرا کی سرکاری ہیلپ لائن سے کریں۔