صحت کارڈ علاج فہرست (Sehat card treatment list) پنجاب ہیلتھ انیشیٹو مینجمنٹ کمپنی (PHIMC) جاری کرتی ہے، جو اب سرکاری طور پر ہیلتھ انشورنس پروگرام کہلانے والا پروگرام چلاتی ہے۔ پی ایچ آئی ایم سی بیماریوں یا پروسیجرز کی لمبی فہرست شائع نہیں کرتی۔ وہ علاج کی اقسام، مفت علاج کی مختصر فہرست، اور شامل نہ ہونے والے علاج کی فہرست دیتی ہے۔ یہ گائیڈ ستمبر 2026 کے مطابق تینوں کو ایک جگہ بتاتی ہے۔

یہ صفحہ صرف پنجاب کے بارے میں ہے۔ sehatsahulat.com.pk کی فہرستیں خیبر پختونخوا کے صحت کارڈ پلس کی ہیں، اور pmhealthprogram.gov.pk وفاقی پروگرام ہے جو اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے ہے۔ اگر آپ پروگرام میں نئے ہیں تو پہلے ہماری مرکزی صحت کارڈ گائیڈ پڑھیں۔

صحت کارڈ علاج فہرست: 3 مرحلوں میں اپنا علاج چیک کریں

  1. دیکھیں کہ داخلہ درکار ہے یا نہیں۔ صرف ہسپتال میں داخلے والا علاج کور ہے۔ او پی ڈی شامل نہیں۔
  2. نیچے دی گئی پی ایچ آئی ایم سی کی فہرستوں میں اپنا علاج تلاش کریں: شامل، مفت، یا خارج۔ پی ایچ آئی ایم سی کے مطابق باقی امراض پر 50 فیصد ادائیگی ہے۔
  3. ہسپتال میں تصدیق کریں۔ داخلے پر رضامندی سے پہلے اپنا اصل شناختی کارڈ لے کر پینل ہسپتال کے ہسپتال فیسلیٹیشن آفیسر (HFO) کے پاس جائیں، یا 0800-07542 (24 گھنٹے) پر کال کریں۔
صحت کارڈ علاج فہرست: گو پنجاب اہم معلومات کارڈ
داخلے سے پہلے ہسپتال فیسلیٹیشن آفیسر سے پوچھیں کہ آپ کا علاج شامل ہے، مفت ہے یا 50 فیصد ادائیگی والا ہے۔

پنجاب میں صحت کارڈ پر کون سے علاج شامل ہیں

پی ایچ آئی ایم سی کے انگریزی سوالات و جوابات کے مطابق ہسپتال میں داخلے کے دوران یہ علاج شامل ہیں:

  • داخلے والے میڈیکل اور سرجیکل پروسیجر
  • ایمرجنسی داخلے
  • ہڈی ٹوٹنا اور چوٹیں
  • دل کے پروسیجر (انجیوپلاسٹی، بائی پاس)
  • کینسر (سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی)
  • ذیابیطس کی پیچیدگیاں
  • جلنا اور سڑک کے حادثے (جان یا اعضا بچانے کا علاج، مصنوعی اعضا)
  • دائمی انفیکشن (یرقان یعنی ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی، جوڑوں کے امراض)
  • دماغ اور اعصاب کی سرجری
  • تھیلیسیمیا کا علاج

سوالات و جوابات میں یہ بھی لکھا ہے:

  • دوائیں، ٹیسٹ اور تشخیص کور ہیں، مگر صرف اس وقت جب آپ ہسپتال میں داخل ہوں۔
  • پہلے سے موجود بیماریاں بھی کور ہیں۔
  • داخلے سے ایک دن پہلے اور پانچ دن بعد تک کے اخراجات کور ہیں۔

سیکنڈری کیئر اور ترجیحی علاج

پی ایچ آئی ایم سی ہر خاندان کی کوریج کو دو سالانہ حدوں میں بانٹتی ہے۔ اردو سوالات و جوابات میں ان کی وضاحت یوں ہے:

  • ثانوی علاج (سیکنڈری کیئر)، سالانہ 60,000 روپے: ہر وہ علاج جس میں ہسپتال میں داخلہ ضروری ہو۔
  • ترجیحی علاج، سالانہ 400,000 روپے: پیچیدہ اور بھاری اخراجات والی بیماریاں۔ اردو سوالات و جوابات میں امراض قلب، داخلے والی ذیابیطس کی پیچیدگیاں، حادثاتی چوٹیں (ہڈی ٹوٹنا، سڑک کا حادثہ، جلنا)، دائمی بیماریوں کی پیچیدگیاں جیسے ہیپاٹائٹس بی اور سی، اعصابی نظام کی جراحی، اور تھیلیسیمیا کے نام ہیں۔

خاص صورتوں میں کوریج 10 لاکھ روپے تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ خاندان سے مراد میاں، بیوی اور ان کے غیر شادی شدہ بچے ہیں۔ استعمال نہ ہونے والی رقم نقد نہیں ملتی۔ ہماری صحت کارڈ بیلنس چیک گائیڈ بتاتی ہے کہ حد کیسے استعمال ہوتی ہے اور باقی رقم کیسے پوچھیں۔

کون سا علاج مفت ہے اور کس پر 50 فیصد ادائیگی ہے

ستمبر 2026 تک پی ایچ آئی ایم سی کے سوالات و جوابات کے مطابق پینل شدہ پرائیویٹ ہسپتال یہ علاج مفت کرتے ہیں:

پینل شدہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں مفتآپ 50 فیصد دیں گے
کینسرباقی شامل امراض
آئی سی یو، سی سی یو اور این آئی سی یو
میڈیکل کیسز
تھیلیسیمیا
تمام ایمرجنسی سہولیات

انگریزی سوالات و جوابات کے الفاظ ہیں کہ دیگر امراض میں علاج کے اخراجات کا 50 فیصد ہیلتھ انشورنس پروگرام دیتا ہے۔ باقی آدھا خرچ آپ کا خاندان دیتا ہے۔ دواؤں اور ٹیسٹوں والے جواب میں بھی کو-پیمنٹ پالیسی کے تحت یہی 50 فیصد اصول لکھا ہے۔

ہسپتال کی زبان میں “میڈیکل کیس” عام طور پر وہ داخلہ ہوتا ہے جس میں آپریشن نہ ہو۔ جو طے شدہ آپریشن مفت فہرست میں نہیں، اس پر غالباً 50 فیصد ادائیگی ہو گی، اس لیے رضامندی سے پہلے پوچھ لیں۔

صحت کارڈ میں کیا شامل نہیں

پی ایچ آئی ایم سی کے مطابق یہ علاج نہ پروگرام میں شامل ہیں نہ انشورنس کمپنی کے تحت:

  • او پی ڈی وزٹ
  • نارمل ڈلیوری اور سی سیکشن
  • کاسمیٹک سرجری
  • دانتوں کا علاج
  • نظر کی عینک
  • منشیات سے متعلق بیماریوں کا علاج
  • خودکشی کی کوشش یا جرائم کے دوران لگنے والی چوٹیں
  • وہ علاج جو انشورنس کمپنی کی پالیسی میں شامل نہ ہوں

ڈلیوری شامل نہ ہونے کی وجہ سے مائیں الگ آغوش پروگرام دیکھ سکتی ہیں۔ پی ایچ آئی ایم سی وزیراعلیٰ کے الگ پروگرام بھی چلاتی ہے، جیسے ڈائیلاسز، ٹرانسپلانٹ، دل کی سرجری اور کینسر کے مریضوں کے لیے۔ ان کے اپنے قواعد ہیں اور وہ اس فہرست کا حصہ نہیں۔

کیا پروسیجرز کی مکمل فہرست موجود ہے؟

ہمیں نہیں ملی۔ ستمبر 2026 تک پی ایچ آئی ایم سی کا ہیلتھ انشورنس پروگرام صفحہ صرف سوالات و جوابات اور ہسپتالوں کی فہرست سے جڑا ہے۔ اس پر ہر پروسیجر کی فہرست یا پیکج کی قیمتیں نہیں۔ سہولتیں ایک معاہدہ شدہ انشورنس کمپنی کے ذریعے ملتی ہیں، اور سوالات و جوابات کے مطابق جو علاج اس کی پالیسی میں خارج ہو وہ کور نہیں۔

اس لیے جو علاج اوپر درج نہیں، وہ شامل بھی ہو سکتا ہے اور نہیں بھی۔ آپ کے کیس کا جواب صرف ہسپتال کا ڈیسک یا ہیلپ لائن دے سکتی ہے۔ بلاگز اور سوشل میڈیا پر “بیماریوں کی لمبی فہرستوں” سے محتاط رہیں۔ ان میں سے بہت سی خیبر پختونخوا کے پروگرام یا پنجاب کی پرانی اسکیم سے نقل کی گئی ہیں۔

ہسپتال میں اپنے علاج کی تصدیق کیسے کریں

ہر پینل شدہ ہسپتال میں ہسپتال فیسلیٹیشن آفیسر یا استقبالیہ پر پروگرام کا ہیلپ ڈیسک ہوتا ہے۔ پی ایچ آئی ایم سی کے مطابق یہ نمائندہ آپ کا شناختی کارڈ چیک کر کے داخلے میں رہنمائی کرتا ہے۔

  1. اپنا اصل شناختی کارڈ لے جائیں۔ 18 سال سے کم عمر بچے کے لیے اس کا بی فارم بھی ساتھ رکھیں۔
  2. فیسلیٹیشن آفیسر کو وہ علاج بتائیں جو ڈاکٹر نے تجویز کیا ہے۔
  3. تین سوال پوچھیں۔ کیا یہ علاج شامل ہے؟ مفت ہے یا 50 فیصد ادائیگی والا؟ میرے خاندان کی کتنی حد باقی ہے؟
  4. اگر آپ کو حصہ دینا ہے تو تخمینہ لکھ کر مانگیں، اور ہر بل سنبھال کر رکھیں۔

پہلے ہسپتال کی حیثیت دیکھیں

پی ایچ آئی ایم سی کی ہسپتال فہرست “List of Empaneled Hospitals under Health Insurance Program (HIP)” میں اب Currently Status کا خانہ ہے۔ 28 ستمبر 2026 کو ہم نے HIP ہسپتال فہرست کی پی ڈی ایف دیکھی تو اس میں 153 ہسپتال تھے۔ زیادہ تر کے آگے Active لکھا تھا، مگر 10 کے آگے Services on hold اور ایک کے آگے Not Active درج تھا۔ پی ڈی ایف کی فائل معلومات کے مطابق یہ 17 ستمبر 2026 کو بنائی گئی۔

سفر سے پہلے فہرست میں اپنا ہسپتال تلاش کریں، اور ہسپتال یا 0800-07542 پر کال کر کے تصدیق کریں۔ ہماری صحت کارڈ ہسپتال فہرست گائیڈ بتاتی ہے کہ فون پر فہرست کیسے تلاش کریں۔

ایمرجنسی میں انتظار نہ کریں اور قریب ترین ہسپتال جائیں۔ ایمرجنسی پی ایچ آئی ایم سی کی مفت فہرست میں ہے، اور سوالات و جوابات کے مطابق جان لیوا امراض کا علاج حد ختم ہونے کے بعد بھی ہوتا ہے۔

اگر شامل علاج سے انکار ہو جائے

پی ایچ آئی ایم سی کہتی ہے کہ پہلے تصدیق کریں کہ آپ کا کیس داخلے کا ہے، علاج خارج فہرست میں نہیں، اور آپ کی حد ختم نہیں ہوئی (ایمرجنسی میں یہ شرط نہیں)۔ پھر بھی انکار غلط ہو تو:

  • ہسپتال میں موجود فیسلیٹیشن آفیسر سے بات کریں
  • 0800-07542 (24 گھنٹے) پر کال کریں، یا 0333-6756390، 042-99066000 یا 042-99066001 (پیر تا ہفتہ، صبح 8 سے رات 11 بجے تک)
  • info@phimc.punjab.gov.pk پر ای میل کریں

اگر خاندان کا کوئی فرد ریکارڈ میں نہیں تو نادرا سے ریکارڈ اپڈیٹ کرائیں۔ ہماری نادرا ایف آر سی گائیڈ بتاتی ہے کہ خاندانی ریکارڈ کیسے چیک کریں۔

ایجنٹوں اور جعلی “پیکجز” سے بچیں

پنجاب کے پروگرام میں نہ رجسٹریشن ہے نہ کوئی فیس۔ آپ کا شناختی کارڈ ہی آپ کا کارڈ ہے۔

  • کوئی بھی پیسوں کے بدلے آپ کی کوریج میں علاج شامل نہیں کر سکتا اور نہ پیکج “اپ گریڈ” کر سکتا ہے
  • صحت کارڈ کے نام پر کال کرنے والے کو کبھی او ٹی پی نہ بتائیں
  • ادائیگی کے بدلے “مکمل بیماریوں کی فہرست” یا کوریج کی پیشکش والے پیغامات نظر انداز کریں
  • پنجاب کے لیے صرف phimc.punjab.gov.pk اور 0800-07542 استعمال کریں

دھوکے کی شکایت پاکستان سٹیزن پورٹل پر کریں۔

گو پنجاب ایک آزاد ویب سائٹ ہے۔ ہم پی ایچ آئی ایم سی، کوئی ہسپتال یا انشورنس کمپنی نہیں، اور نہ علاج منظور کر سکتے ہیں، نہ آپ کا بیلنس دیکھ سکتے ہیں، نہ کوریج بڑھا سکتے ہیں۔ ہم صرف یہ بتاتے ہیں کہ سرکاری پروگرام کیا کہتا ہے۔