گرین ٹریکٹر اسکیم قرعہ اندازی نتیجہ (Green Tractor Scheme ballot result) سے پتا چلتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب گرین ٹریکٹر پروگرام میں سبسڈی والے ٹریکٹر کے لیے آپ کا نام نکلا یا نہیں۔ 19 ستمبر 2026 تک فیز 4 کا نتیجہ ابھی نہیں آیا۔ درخواستیں 5 ستمبر 2026 کو بند ہوئیں، اور ہمیں قرعہ اندازی کی کوئی تصدیق شدہ تاریخ نہیں ملی۔

3 مرحلوں میں نتیجہ کیسے دیکھیں (نتیجہ آنے کے بعد)

  1. سرکاری پورٹل gts.punjab.gov.pk پر جائیں اور Balloting Result کا لنک تلاش کریں۔
  2. وہ 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ نمبر لکھیں جس سے درخواست دی تھی، اور حساب والا آسان کیپچا حل کریں۔
  3. Submit دبائیں اور اپنا نتیجہ پڑھیں۔ اگر نتیجے کا لنک ابھی موجود نہیں تو نتیجہ جاری نہیں ہوا۔

یہ مراحل اسی طریقے پر ہیں جس طرح پچھلی قرعہ اندازیوں کے بعد پورٹل کام کرتا تھا۔

سبسڈی، اہلیت کی شرائط اور فیز 4 کی درخواست کے طریقے کے لیے ہماری مرکزی گرین ٹریکٹر اسکیم گائیڈ دیکھیں۔ بہت سے لوگ اسے “GTS ballot result” یا گرین ٹریکٹر “قرعہ اندازی رزلٹ” کے نام سے بھی تلاش کرتے ہیں۔

گرین ٹریکٹر اسکیم قرعہ اندازی نتیجہ: ستمبر 2026 کی صورتحال

19 ستمبر 2026 تک
فیز 4 کی درخواستیںبند۔ پورٹل کے مطابق آخری تاریخ 5 ستمبر 2026 تھی
قرعہ اندازی کی تاریخکوئی تصدیق شدہ سرکاری تاریخ نہیں ملی
نتیجے کا صفحہفیز 4 کے لیے ابھی فعال نہیں
ہیلپ لائنزرعی ہیلپ لائن 0800-17000

قرعہ اندازی ابھی ہوئی نہیں، اس لیے فیز 4 کے کامیاب کسانوں کا ابھی کسی کو علم نہیں۔ آج “فیز 4 کی کامیاب فہرست” دکھانے والی کوئی ویب سائٹ یا پیغام سرکاری نہیں۔

قرعہ اندازی کی تاریخ بدل سکتی ہے: فیز 1 کی قرعہ اندازی کی خبر پہلے اکتوبر 2024 کے لیے آئی تھی، مگر وہ 1 نومبر 2024 کو ہوئی۔ بلاگز کی تاریخوں کے بجائے محکمہ زراعت کے اپنے اعلان پر بھروسہ کریں۔

نتیجہ کہاں بتایا جائے گا

پچھلے نتائج کئی طریقوں سے بتائے گئے:

کہاںپچھلے فیزز میں کیا ہوا
پروگرام پورٹلgts.punjab.gov.pk پر نتیجے کا صفحہ شناختی کارڈ نمبر سے نتیجہ بتاتا تھا
محکمہ زراعت کی ویب سائٹفیز 1 کے کامیاب کسانوں کے نام وہاں دکھائے گئے
ضلعی دفاترفیز 1 کی فہرست محکمہ زراعت کے دفاتر میں بھی موجود تھی
ایس ایم ایسدی نیشن کے مطابق فیز 1 کے کامیاب کسانوں کو رجسٹرڈ موبائل پر ایس ایم ایس آنا تھا

ہم تصدیق نہیں کر سکے کہ فیز 4 کے کامیاب کسانوں کو ایس ایم ایس آئے گا یا نہیں۔ اس کا انتظار نہ کریں، خود پورٹل پر چیک کریں۔

نتیجے کا صفحہ پہلے کیا مانگتا تھا

پچھلی قرعہ اندازیوں کے بعد پورٹل پر Ballot Result کے نام سے ایک صفحہ تھا جو ہر کوئی کھول سکتا تھا۔ یہ صرف دو چیزیں مانگتا تھا:

  • آپ کا شناختی کارڈ نمبر، 13 ہندسوں میں
  • ایک حساب والے کیپچا کا جواب (تصویر میں لکھا جمع یا تفریق کا چھوٹا سا سوال)

یہ صفحہ پاس ورڈ، او ٹی پی، بینک اکاؤنٹ یا کوئی ادائیگی نہیں مانگتا تھا۔ اگر کوئی “نتیجے” کا صفحہ ان میں سے کچھ مانگے تو اسے بند کر دیں۔

صفحے کے نوٹ کے مطابق نتیجہ عارضی تھا اور اس میں غلطی یا کمی ہو سکتی تھی (“subject to errors and omissions”)، ہر کامیاب کسان کی حکومت پاکستان کے شیڈول 4 کے تحت جانچ ہوتی ہے (ایک سیکیورٹی چیک)، اور کامیاب کسان اپنا الاٹمنٹ لیٹر اپنے ضلع کے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) سے لیتے ہیں۔

اس صفحے کی ایک پرانی نقل، جو پچھلے فیز کی ہے، ابھی بھی آن لائن ہے۔ وہاں “not found” آنے کا فیز 4 سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے نتیجے کے اصل پیغامات نقل نہیں کیے، کیونکہ انہیں دیکھنے کے لیے کسی کا اصل شناختی کارڈ نمبر درج کرنا پڑتا۔

پچھلی قرعہ اندازیوں کے بعد گرین ٹریکٹر کے نتیجے کا صفحہ صرف شناختی کارڈ نمبر اور آسان حساب والا کیپچا مانگتا تھا۔

پچھلی قرعہ اندازیاں کیسے ہوئیں

اب تک ہر فیز کا فیصلہ اہل درخواست گزاروں میں قرعہ اندازی سے ہوا، جس کا آغاز وزیراعلیٰ نے ایک عوامی تقریب میں کیا۔

فیزقرعہ اندازیدرخواستیںٹریکٹر
11 نومبر 2024، ڈیجیٹل قرعہ اندازی15 لاکھ سے زیادہ9,500
2ستمبر 2025، لاہور میں قرعہ اندازی734,000، جن میں 282,000 اہلاس قرعہ اندازی میں 9,500
3فروری 2026، کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی427,00010,000
4ابھی نہیں ہوئیکوئی تعداد جاری نہیں ہوئی10,000

ذرائع: ڈان، دی نیشن، اے پی پی، بزنس ریکارڈر، پرو پاکستانی، اور فیز 4 کا سرکاری فارم۔

فیز 3 میں تقریباً ہر 43 درخواست گزاروں کے لیے ایک ٹریکٹر تھا۔ اہل ہونا اور منتخب ہونا ایک بات نہیں۔

اگر آپ کا نام نکل آئے: آگے کیا کریں

فیز 4 کے سرکاری درخواست فارم کے مطابق کامیاب کسان کو یہ کرنا ہوتا ہے:

  1. الاٹمنٹ لیٹر لیں۔ پچھلے فیزز میں یہ ضلع کے زراعت (توسیع) دفتر سے ملتا تھا۔
  2. اپنا حصہ وقت پر جمع کرائیں۔ لیٹر میں دی گئی مدت کے اندر ٹریکٹر کی قیمت میں اپنا حصہ، اور رجسٹریشن فیس، کارڈ فیس، نمبر پلیٹ فیس اور ٹرانسفر فیس جمع کرائیں۔
  3. وہی ماڈل ملے گا جو آپ نے چنا تھا۔ درخواست کے وقت چنی گئی کمپنی اور ماڈل (50 سے 65 ہارس پاور) بعد میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔
  4. ٹریکٹر اپنے پاس رکھیں۔ یہ کم از کم 3 سال آپ کے نام رجسٹرڈ رہے گا۔ اس سے پہلے اسے بیچنا جرم ہے۔

فیز 4 میں سبسڈی 7.5 لاکھ روپے (750,000 روپے) ہے، اس لیے آپ کا حصہ آپ کے ماڈل کی قیمت میں سے یہ رقم نکال کر بنتا ہے۔ فیز 1 میں دی نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ کامیاب کسانوں نے بینک آف پنجاب کی کسی بھی برانچ میں ادائیگی کی اور ٹریکٹر قریبی ڈیلر سے ملا۔ فیز 4 کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے لیٹر پر عمل کریں۔

مدت کی سختی سے پابندی ہوتی ہے۔ فیز 3 کی قرعہ اندازی کے بعد کامیاب کسانوں کو لیٹر لینے اور ادائیگی کے لیے 6 مارچ 2026 تک، اور پھر توسیع کے بعد 31 مارچ 2026 تک وقت ملا۔ محکمے نے کہا کہ جو یہ مدت چوک گئے، ان کی جگہ ویٹنگ لسٹ کے کسانوں کو موقع ملے گا۔

اگر آپ کا نام نہ نکلے

زیادہ تر لوگوں کا نام نہیں نکلتا، کیونکہ درخواست گزار ٹریکٹروں سے کہیں زیادہ ہیں۔

  • قرعہ اندازی بے ترتیب ہے۔ کوئی دفتر یا ایجنٹ پیسے لے کر اسے نہیں بدل سکتا۔
  • ویٹنگ لسٹ ہو سکتی ہے۔ فیز 3 میں جن الاٹمنٹس کی ادائیگی وقت پر نہیں ہوئی، وہ ویٹنگ لسٹ کے کسانوں کو ملیں۔ فیز 4 کے لیے ہم اس کی تصدیق نہیں کر سکے۔
  • آگے دوبارہ کوشش کر سکتے ہیں۔ فیز 4 میں پچھلے کامیاب کسانوں پر پابندی تھی، ان کسانوں پر نہیں جن کا نام نہیں نکلا تھا۔ نیا فیز کھلے تو اس کی اپنی شرائط دیکھیں۔
  • زمین کا ریکارڈ درست رکھیں۔ فیز 4 میں کم از کم 5 ایکڑ تصدیق شدہ زمین ضروری تھی۔ ہماری پنجاب زمین کا ریکارڈ گائیڈ بتاتی ہے کہ اپنا ریکارڈ کیسے چیک کریں۔

عام مسائل اور ان کا حل

نتیجہ نظر نہیں آتا، یا “pending” لکھا ہے۔ غالباً قرعہ اندازی ابھی ہوئی نہیں یا نتیجہ جاری نہیں ہوا۔ اعلان کے بعد دوبارہ دیکھیں۔

شناختی کارڈ نمبر پر “not found” آتا ہے۔ یقین کر لیں کہ آپ فیز 4 کے نتیجے کے صفحے پر ہیں، کسی پچھلے فیز کے پرانے صفحے پر نہیں۔ وہی شناختی کارڈ نمبر پورے 13 ہندسوں میں لکھیں جس سے درخواست دی تھی۔ پھر بھی مسئلہ رہے تو 0800-17000 پر کال کریں۔

اپنے اکاؤنٹ میں لاگ اِن نہیں ہو رہا۔ فیز 4 کا لاگ اِن صفحہ شناختی کارڈ نمبر، پاس ورڈ اور کیپچا مانگتا ہے، اور اس پر پاس ورڈ بھولنے کا کوئی لنک نہیں۔ ہیلپ لائن پر کال کریں یا اپنے ضلعی زراعت توسیع دفتر جائیں۔ لاگ اِن کروانے کے لیے کسی کو پیسے نہ دیں۔

آپ نے کاغذی فارم پر درخواست دی تھی۔ غیر کمپیوٹرائزڈ موضع کے کسانوں نے فارم ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) کے دفتر میں جمع کرائے تھے۔ اپنے نتیجے کے بارے میں اسی دفتر سے پوچھیں۔

آپ کا موبائل نمبر بدل گیا ہے۔ پورٹل پر شناختی کارڈ نمبر سے چیک کریں، یا ہیلپ لائن پر کال کریں۔

نتیجہ دیکھنا مفت ہے: قرعہ اندازی کے نام پر دھوکے سے بچیں

نتیجے کے دنوں میں جعلی کالیں اور پیغامات بڑھ جاتے ہیں۔

  • نتیجہ دیکھنا مفت ہے۔ پورٹل اور ہیلپ لائن پر کوئی خرچ نہیں۔
  • کوئی پیسے لے کر آپ کو منتخب نہیں کرا سکتا۔ قرعہ اندازی بے ترتیب ہے۔
  • “آپ کا نام نکل آیا ہے” کہہ کر فیس مانگنے والی کال دھوکہ ہے۔ اپنا حصہ صرف اسی طریقے سے جمع کرائیں جو آپ کے سرکاری الاٹمنٹ لیٹر میں لکھا ہو، کبھی کسی کے ذاتی اکاؤنٹ میں نہیں۔
  • او ٹی پی یا پاس ورڈ کبھی کسی کو نہ بتائیں، چاہے وہ خود کو محکمہ زراعت کا اہلکار کہے۔

کوئی پیسے مانگے تو اس کی شکایت پاکستان سٹیزن پورٹل پر کریں۔

رابطہ

  • پروگرام پورٹل: gts.punjab.gov.pk
  • محکمہ زراعت: agripunjab.gov.pk
  • زرعی ہیلپ لائن: 0800-17000
  • خود جا کر: اپنے ضلع میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) کا دفتر

متعلقہ مدد

یہ دیکھنے کے لیے کہ آپ کے گھرانے پر اور کیا لاگو ہو سکتا ہے، ہمارا مفت اہلیت چیکر آزمائیں۔

گو پنجاب ایک آزاد معلوماتی ویب سائٹ ہے۔ ہم محکمہ زراعت نہیں، اور نہ آپ کی جگہ آپ کا نتیجہ دیکھ سکتے ہیں، نہ قرعہ اندازی میں شامل کر سکتے ہیں اور نہ ٹریکٹر دے سکتے ہیں۔ ہم صرف یہ بتاتے ہیں کہ سرکاری طریقہ کیسے کام کرتا ہے۔