معذور افراد کے لیے آمدنی اسکیم پنجاب کے معذور افراد کو اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمایہ قرض دیتی ہے، بغیر کوئی سود لیے۔ یہ گائیڈ بتاتی ہے کہ کتنا قرض مل سکتا ہے، اسے کون چلاتا ہے، اور کیا تیاری کرنی ہے۔

اس کا بیان کردہ مقصد پنجاب کے معذور افراد کو بامقصد روزی کمانے میں مصروف کرنا ہے، یعنی کمانا، صرف وصول کرنا نہیں۔

معذور افراد کے لیے آمدنی اسکیم قرض کیوں دیتی ہے، وظیفہ کیوں نہیں

پنجاب پہلے ہی ہمقدم پروگرام اور ہمت کارڈ کے ذریعے معذور افراد کو نقد امداد دیتا ہے۔ یہ ماہانہ اخراجات میں مدد دیتی ہے۔

مگر بہت سے معذور افراد وظیفے کو اپنا سارا مستقبل نہیں بنانا چاہتے۔ وہ دکان چلانا چاہتے ہیں، موبائل مرمت کا کام، سلائی کا سیٹ اپ، یا مرغبانی کا چھوٹا کاروبار۔ انہیں صلاحیت نہیں روکتی۔ انہیں یہ روکتا ہے کہ کوئی تجارتی بینک ایسے شخص کو ابتدائی سرمایہ نہیں دیتا جس کے پاس نہ ضمانت ہو نہ قرض کی تاریخ۔

یہ اسکیم اسی بند گلی کو کھولنے کے لیے ہے۔

کتنا قرض مل سکتا ہے

25,000 سے 100,000 روپے تک بلاسود قرض۔

رقم آپ کے کاروباری منصوبے اور اسکیم کی منظوری پر منحصر ہے۔ سلائی مشین اور ابتدائی کپڑے کا اسٹاک ایک سطح پر آتا ہے، چھوٹی دکان قائم کرنا دوسری سطح پر۔

2017 سے اب تک اس اسکیم کے تحت تقریباً 27 کروڑ روپے تقسیم ہو چکے ہیں، اور واپسی کی شرح 100 فیصد بتائی گئی ہے۔

25,000 سے 100,000 روپے تک بلاسود قرض معذور افراد کو اپنا کاروبار شروع کرنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ شرح سمجھنے کے قابل ہے

100 فیصد واپسی کی شرح دنیا میں کسی بھی قرض پروگرام کے لیے غیر معمولی ہے۔

یہ دو کارآمد باتیں بتاتی ہے۔

پہلی، یہ اس خیال کا جواب ہے کہ غریب قرض داروں کو قرض دینا خطرناک ہے۔ یہ لوگ واپس کرتے ہیں۔ باقاعدگی سے۔

دوسری، اور آپ کے لیے زیادہ عملی: چونکہ پیسہ واپس آتا ہے، اس لیے فنڈ نئے درخواست دہندگان تک گھومتا رہتا ہے۔ واپسی صرف آپ کی ذمہ داری نہیں، یہی وہ چیز ہے جو اسکیم کو اگلے معذور فرد کے لیے دستیاب رکھتی ہے۔

کون اہل ہے

اسکیم کہتی ہے کہ پنجاب کے تمام معذور افراد اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے بلاسود قرض کے اہل ہیں۔

عملی طور پر آپ کو یہ درکار ہوں گے:

  • درست شناختی کارڈ، ترجیحاً نادرا کا جاری کردہ خصوصی شناختی کارڈ
  • معذوری کی دستاویز، جیسے مجاز میڈیکل بورڈ کا سرٹیفکیٹ
  • ایک قابلِ عمل کاروباری خیال جو آپ سمجھا سکیں
  • پنجاب میں رہائش

شرائط بدل سکتی ہیں۔ موجودہ صورتحال پی ایس پی اے ہیلپ لائن 1221 سے تصدیق کریں۔

اسے چلاتا کون ہے

تین ادارے شامل ہیں، اسی لیے پوچھنے پر لوگوں کو اِدھر اُدھر بھیج دیا جاتا ہے:

  • پی ایس پی اے — پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی، جس کے پروگراموں میں یہ اسکیم شامل ہے
  • پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن (PSIC) — اسکیم کے فنڈز سنبھالتی ہے
  • اخوت — سروس فراہم کنندہ جو اسے زمینی سطح پر چلاتی ہے

اگر آپ واقعی درخواست دینا چاہتے ہیں تو اخوت وہ نام ہے جو یاد رکھیں۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا بلاسود مائیکرو فنانس ادارہ ہے، قرضِ حسنہ کے اصول پر چلتا ہے، اور پورے پنجاب میں اس کی شاخیں ہیں۔

اگر ہیلپ لائن سے بات نہ بنے تو قریبی اخوت شاخ میں اس اسکیم کے بارے میں پوچھنا مناسب اگلا قدم ہے۔

درخواست سے پہلے: کاروباری منصوبہ

آپ کو باقاعدہ تحریری دستاویز کی ضرورت نہیں۔ مگر چند سوالوں کے واضح جواب ضرور چاہئیں، کیونکہ جو آپ کی درخواست دیکھے گا وہ یہی پوچھے گا:

  • آپ کیا بیچیں یا بنائیں گے؟
  • کون خریدے گا؟ ممکنہ گاہک کا نام لینا “علاقے کے لوگ” سے بہتر ہے۔
  • رقم سے بالکل کیا خریدیں گے؟ فہرست بنائیں۔
  • عام مہینے میں کتنی کمائی ہوگی؟
  • چلانے کے اخراجات کیا ہیں — اسٹاک، آمد و رفت، بجلی، خام مال؟
  • اُس آمدنی سے واپسی کیسے کریں گے؟

یہ بھی حقیقت پسندی سے دیکھیں کہ آپ کی معذوری کام کی نوعیت پر کیا اثر ڈالتی ہے۔ ایسا کاروبار جو آپ کی نقل و حرکت، توانائی اور روزمرہ معمول کے مطابق ہو، اُس سے زیادہ چلے گا جو ان سے لڑتا ہو۔

یہ قرض ہے

بلاسود ہونے کا مطلب مفت نہیں۔ قبول کرنے سے پہلے واضح کر لیں:

  • واپسی کا شیڈول اور اقساط کب شروع ہوں گی
  • قسط کی رقم اور کیا آپ کی متوقع آمدنی اسے پورا کرتی ہے
  • کوئی ضامن درکار ہے یا نہیں
  • کاروبار مشکل میں آ جائے تو کیا ہوگا

اتنا ہی قرض لیں جتنا منصوبے کو واقعی چاہیے۔ چھوٹا قرض جو آپ آرام سے واپس کر دیں، اُس بڑے قرض سے بہتر ہے جو بوجھ بن جائے۔

لوگ عام طور پر کون سا کاروبار شروع کرتے ہیں

اسکیم کھلی ہے، مگر جو کاروبار چلتے ہیں ان کی شکل ملتی جلتی ہوتی ہے: کم اسٹاک، مقامی گاہک، اور ایسا کام جو ایک جگہ بیٹھ کر ہو سکے۔

عام مثالیں:

  • موبائل فون کی مرمت اور لوازمات، جس میں دکان سے زیادہ مہارت چاہیے
  • سلائی، جہاں مشین جلد اپنی قیمت پوری کر لیتی ہے
  • گھر کے ایک کمرے سے چلنے والی چھوٹی کریانہ دکان
  • مرغبانی یا بکری پالنا، جو محدود نقل و حرکت کے ساتھ بھی ممکن ہے
  • فوٹو کاپی، پرنٹنگ یا ایزی پیسہ پوائنٹ
  • کڑھائی یا دستکاری، جو مقامی دکان کو فروخت ہو

قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر گھر سے چل سکتے ہیں۔ اگر آپ کے لیے سفر مشکل ہے تو یہ کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ ایسی چھلنی ہے جو آپ کو درست کاروبار کی طرف لے جاتی ہے۔

سوچ سے کم قرض لیں

سب سے عام غلطی یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ رقم صرف اس لیے لے لی جائے کہ دستیاب ہے۔

ایک لاکھ کا قرض جس کی اقساط آپ نہ دے سکیں، اُس تیس ہزار کے قرض سے بدتر ہے جو آپ کام سیکھتے ہوئے آرام سے واپس کر دیں۔ ایک بار واپسی کا ریکارڈ بن جائے تو آپ دوبارہ قرض لے سکتے ہیں، اور مکمل شدہ قرض بہترین سفارش ہوتا ہے۔

اُس کاروبار کے لیے قرض لیں جو آپ پہلے مہینے میں واقعی چلا سکیں، اُس کے لیے نہیں جس کی امید آپ تیسرے سال سے لگائے بیٹھے ہیں۔

درخواست مفت ہے

  • درخواست دینے پر کچھ خرچ نہیں۔ جمع کرانے کی کوئی پروسیسنگ فیس نہیں۔
  • کوئی ایجنٹ منظوری کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
  • او ٹی پی کسی کو نہ دیں۔
  • جو رقم بھی دیں اس کی رسید لیں۔

پیسے مانگے جانے پر پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایت کریں۔

رابطہ

متعلقہ معاونت

پنجاب کے معذور افراد ایک ساتھ کئی پروگراموں کے اہل ہو سکتے ہیں، اور یہ الگ الگ درخواستیں ہیں:

اپنے گھرانے کے لیے موزوں پروگرام دیکھنے کے لیے ہمارا مفت اہلیت چیکر آزمائیں۔

گو پنجاب ایک آزاد معلوماتی ویب سائٹ ہے۔ ہم پی ایس پی اے، پی ایس آئی سی یا اخوت نہیں۔ ہم نہ قرض منظور کر سکتے ہیں، نہ درخواست پراسیس کر سکتے ہیں اور نہ رقم جاری کر سکتے ہیں۔ ہم صرف سرکاری طریقہ کار سمجھاتے ہیں۔